مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا کیس ،انٹرا پارٹی انتخابات ہوتے تو پی ٹی آئی کے لوگوں کو فائدہ ہوتا ،چیف جسٹس

منگل 04 جون 2024ء

سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستیں کیس،جسٹس منیب اختر نے کہا سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کرنا اس سارے تنازعہ کی وجہ بنا،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دییے کہ کیا سپریم کورٹ فیصلے میں لکھا ہے کہ بلے کا نشان کسی اور کو الاٹ نہیں ہوسکتا؟اگر کسی نے فیصلہ پڑھے بغیر اسے غلط سمجھ لیا تو یہ اسکی غلطی ہے،اگر امیدوار پی ٹی آئی والے خود کو آزاد امیدوار ظاہر کرتے تو بلے کا نشان لےسکتے تھے، سارے مسئلے بہتر طریقےسے حل ہوجاتے اگر تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن کروا دیتی، سارا معاملہ اس وقت شروع ہواجب پارٹی سربراہ وزیراعظم تھاپارٹی انتخابات ہوتے تو فائدہ پی ٹی آئی کے لوگوں کا ہوتا، چیف جسٹس کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی، چیف جسٹس نے استفسار کیا سنی اتحاد کونسل کا پارلیمانی لیڈر کون ہے؟وکیل نے جواب دیامیرے حساب سے یہ سوال کیس سے غیر متعلقہ ہے اس لئے معلوم نہیں کیا تھا، چیف جسٹس نے کہا ہمیں نہ بتائیں کیا متعلقہ ہے اور کیا غیر متعلقہ، ممکن ہے کل سنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے مخالف ہوں،جسٹس منیب اختر نے کہا ارکان حلف لیں گے تو پارلیمانی پارٹی وجود میں آئے گی، پارلیمانی پارٹی کا ذکر اس موقع پر کرنا غیرمتعلقہ ہے،کاغذات نامزدگی میں کوئی خود کو پارٹی امیدوار ظاہر کرے اور ٹکٹ جمع کرائے تو جماعت کا امیدوار تصور ہوگا، آزاد امیدوار وہی ہوگا جو بیان حلفی دے گا کہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والوں نے خود کو کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی امیدوار ظاہر کیا، کاغذات بطور پی ٹی آئی امیدوار منظور ہوئے اور لوگ منتخب ہوگئے، الیکشن کمیشن کے رولز کیسے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دے سکتے ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کل سے میں یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں، آزاد امیدوار وہ ہوتا ہے جو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہ ہو، جسٹس منیب اختر نے کہا سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کرنا اس سارے تنازعہ کی وجہ بنا،چیف جسٹس نے کہا انٹراپارٹی انتخابات نہ ہونے پر سیاسی جماعت کو نشان نہیں ملا،جسٹس منیب اختر نے کہا انتخابی نشان کی الاٹمنٹ سے پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تھا،قانونی غلطیوں کی پوری سیریز ہےجس کا آغاز یہاں سے ہوا تھا، ہر امیدوار اگر بیلٹ پیپر پر پی ٹی آئی امیدوار ہوتا تو یہ سپریم کورٹ فیصلے کی خلاف ورزی ہوتی،چیف جسٹس نے کہا کیا سپریم کورٹ فیصلے میں لکھا ہے کہ بلے کا نشان کسی اور کو الاٹ نہیں ہوسکتا؟اگر کسی نے فیصلہ پڑھے بغیر اسے غلط سمجھ لیا تو یہ اسکی غلطی ہے،اگر امیدوار پی ٹی آئی والے خود کو آزاد امیدوار ظاہر کرتے تو بلے کا نشان لےسکتے تھے، ہم تو مشورہ ہی دے سکتے ہیں جو اس وقت دوران سماعت بھی دیا تھا لیکن مانا نہیں گیاعدالت نے الیکشن کمیشن کے مطابق نہیں قانون پر چلنا ہے، الیکشن کمیشن کے فیصلے روز ہی عدالت میں چیلنج ہوتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا سپریم کورٹ میں کیس انتخابی نشان کا نہیں انٹرا پارٹی انتخابات کا تھا، عدالت نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر کہا تھا کوئی ایشو ہوا تو رجوع کرسکتے ہیں، پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کیلئے درخواست ہی نہیں دی،وکیل نے جواب دیا سارے مسئلے حل ہوجاتے اگر سپریم کورٹ بلے کے نشان والے فیصلے کی وضاحت کر دیتی، چیف جسٹس نے کہا سارے مسئلے بہتر طریقےسے حل ہوجاتے اگر تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن کروا دیتی،قانون کہتا ہے پارٹی الیکشن کروائیں، یا توکہہ دیں قانون پر مت عمل کرو، اصل معاملہ ایک سیاسی جماعت کے انٹرا پارٹی انتخابات کا تھا، سیاسی جماعت نے اپنے ہی لوگوں کو جمہوریت سے محروم رکھا،وکیل نے جواب دیا بلے کے نشان پر نظرثانی درخواست زیرالتواء ہے، چیف جسٹس نے کہا مجھے بات مکمل کرنے دیں، سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب پارٹی سربراہ وزیراعظم تھا،پارٹی انتخابات ہوتے تو فائدہ پی ٹی آئی کے لوگوں کا ہوتا،جمہوریت کی بات کرنی ہے تو پوری جمہوریت کی بات کریں، عدالتی فیصلہ آپ کو پسند ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا اس کیس پر نظرثانی زیرالتواء ہے کیا سب کچھ یہاں ہی کہنا ہے؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہم سب سچ بولنا شروع کریں تو سچ بہت کڑوا ہے، ایک سیاسی جماعت کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی وہ شکایات کرتی رہی،اصل سٹیک ہولڈر ووٹرز ہیں جن کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے، چیف جسٹس نے جسٹس اطہر من اللہ کو اس پر بات کرنے سے روک دیا اور کہا یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا مجھے بات مکمل کرنے دیں، ملک میں پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ کوئی سیاسی جماعت زیر عتاب آئی ہو، چیف جسٹس نے کہا مخصوص نشستوں پر پارٹی سربراہ کی صوابدید ہے چاہے دوستوں کو نواز دے، مخصوص نشستوں میں ووٹرز کا کوئی کردار نہیں ہوتا اگر پی ٹی آئی والے سنی اتحاد کونسل میں شامل نہ ہوتے تو کیا مخصوص نشستیں خالی رہتی؟جسٹس منصور علی شاہ نے کہا حاصل کی گئی جنرل نشستوں سےہی سیاسی جماعت کا تناسب نکلےگا،سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے والے بھی ووٹ لے کر ہی آتے ہیں، بالآخر معاملہ سیاسی جماعت کا ہی ہے،چیف جسٹس نے کہا اتحاد کونسل کے سربراہ نے اپنی ہی جماعت کو آزاد الیکشن لڑ کر مسترد کردیا، آئندہ تاریخ سے سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی، کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کردی گئی۔




``
پستہ قد روسی ٹک ٹاکر گرفتار بھارت میں دلہن شادی کی رسومات چھوڑ کر چلی گئی؟ موبائل مل گیا،لیکن ڈیم خالی ہوگیا اٹلی،ٹریفک کو بحال رکھنے کےلئے انوکھا قانون متعارف
اور بلی بچ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کا سب سے چھوٹا،کیسا اور کہاں واقع ہے جانیئے۔۔۔۔۔۔ انٹرنیٹ سروس معطل،لیکن پاکستانی میڈیا انفلوینسر کی ٹویٹس،دہلی پولیس پریشان دنیا کی مہنگی ترین جیکو کافی کی عجب کہانی