چیف جسٹس سمیت سپریم کورت کے آٹھ ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

جمعه 14 اپریل 2023ء

میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید کو فریق بنایا گیا ہے۔ ریفرنس میں آئین کے آرٹیکل 209 اور ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی دفعہ 3 تا 6 اور9 کا حوالہ دیتے ہوئےموقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے پارلیمنٹ کے منظورکردہ بل کو سماعت کیلئے مقرر کر کے اختیارات سے تجاوز کیا۔ چیف جسٹس نے بل کی سماعت کیلئے اپنی سربراہی میں غیرآئینی طور پرآٹھ رکنی بنچ بھی تشکیل دیا۔ ریفرنس کے متن کے مطابق چیف جسٹس درخواستوں کی سماعت کیلئے بنچ کی خود سربراہی کر کے ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے،تمام آٹھوں ججز پارلیمنٹ کے بل پر سماعت اور اسے معطل کر کے آئین ، قانون اور کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیخلاف حکم امتناعی ڈاکٹر مبشر حسن کیس اور اعتزاز احسن کیس کی خلاف ورزی ہے۔ دائر کردہ ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں 17رکنی فل کورٹ اور اعتزاز احسن کیس میں 12 رکنی بینچ بل کیخلاف حکم امتناعی جاری نہ کرنے کا اصول طے کرچکا ہے۔آٹھ ججز نے پارلیمنٹ کا بل معطل کرکے ڈاکٹر مبشر حسن اور اعتزاز احسن کیس کی خلاف ورزی کی۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال نےاپنے ذاتی، سیاسی اور مفادات کا تحفظ کر کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی۔ ریفرنس کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس شاہد وحید نے مستقبل میں ممکنہ چیف جسٹس بننا ہے۔ آٹھ رکنی بنچ میں شامل ہو کر مستقبل کے چاروں ممکنہ چیف جسٹسز بھی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ جبکہ کرپشن الزامات کے باوجودجسٹس مظاہر نقوی کو تحفظ فراہم کر کے چیف جسٹس نے اپنے حلف ، آئین اور کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ متن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس مظاہر نقوی نے غیرقانونی طور پر خود کو اسمبلیوں کے الیکشن تنازع میں بھی ملوث کیا۔ چیف جسٹس بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے الیکشن ازخود نوٹس کیس کا اکثریتی فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کیا،چیف جسٹس انتظامی اختیارات کے ناجائز استعمال کےمرتکب ہوئے ہیں۔ ریفرنس کے مطابق تمام متنازع بنچوں کی تشکیل کے مرکزی ذمہ دار چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہیں۔ چیف جسٹس جونیئر ججز کی سپریم کورٹ تعیناتی کرکے الجہاد ٹرسٹ اور ملک اسد کیس کے فیصلوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ چیف جسٹس بندیال سمیت آٹھ ججز اعلی معیار پر مبنی ایماندار کردار برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ ریفرنس میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس عمر عطابندیال سمیت آٹھ ججز کو انکوائری کے بعد برطرف کرنے کا حکم دے۔ ججز کیخلاف ریفرنس کی کاپی جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ کوبھی بھجوائی گئی ہے۔چیف جسٹس بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کیخلاف ریفرنس آنے کے بعد انکی جگہ ممکنہ اگلے ممبر سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس منصور علی شاہ ہونگےْ ریفرنس کی کاپی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھی بھجوائی گئی ہے۔




``
آسٹریلیا میں ایک میٹر تک بڑے مشروم کھل اٹھے سانپ تھراپی،نیا طریقہ علاج؟ پیرو میں جوتوں کی چوری کی عجیب واردات دولہے کی شادی سے بھاگنے کی کوشش ناکام
آسٹریلیا میں ایک میٹر تک بڑے مشروم کھل اٹھے ڈولفن بھی نشہ کرنے لگی؟ وینس کی گرینڈ کینال کا پانی سبز ہو گیا !بھوکا ریچھ ساٹھ کیک ہڑپ کر گیا